معاشرے کی سوچ کو بدلنا ریاست کو ماڈرن بنانے سے کہیں زیادہ ضروری ہےمعاشرےمعاشرے کی سوچ کو بدلنا ریاست کو ماڈرن بنانے سے کہیں زیادہ ضروری ہے

نہ حکمران عوام سے مختلف ہوتے ہیں نہ عوام کوئی حکمرانوں سے مختلف چیز – ایک ریاست کے اندر بسنے والے سبھی لوگ ، بہت تھوڑے فرق کے ساتھ
بالکل ایک جیسے ہوتے ہیں- کوئی بھی معاشرہ اپنی عوام کا عکس ہوتا ہے اور فرد معاشرے کا عکس –
کوئی قانون بنا دینے سے، کسی عدالتی حکم سے معاشرے میں تبدیلی نہیں آتی- حتی کہ اداروں کی ری سٹرکچرنگ سے بھی تبدیلی مشکل ہے جب تک کہ مجموعی سوچ میں تبدیلی نہ لائی جائے -سماجی رویے بالکل متعدی بیماری کی طرح ہوتے ہیں، ہر طرف پھیل جاتے ہیں – قطار توڑنا ، غلط اوورٹیک، رشوت، ملاوٹ، جھوٹ، فراڈ، شادی ہال میں نکاح ، برانڈ ، فاسٹ فوڈ آؤٹ لٹس سے کھانا یہ سب معاشرتی رویے ہیں – ہمارے سماجی رویے، ہماری زندگیوں کے رخ کا تعین کرتے ہیں –
کسی بھی پالیسی، قانون ، یا ترقی کا منصوبہ بنانے سے پہلے حکومت کو عوامی مزاج کا سمجھنا ضروری ہے- کسی بھی ترقی کے منصوبے کے لئے عوامی تائید ضروری ہے- جسے ڈویلپمنٹ سپورٹ کمیونیکیشن سے حاصل کیا جاتا ہے-
ریاست کو چلانے کے لئے اندرونی اور بیرونی وسائل کو بروئے کار لایا جاتا ہے- اندرونی وسائل کو کار آمد پالیسیوں، ہنر مند افراد، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، قانون کی بہتر عملداری ، محنت اور لگن سے بڑھایا جاتا ہے –
بیرونی وسائل ، اندرونی وسائل اور ملکی کلچر کے حساب سے حصے میں آتے ہیں – بڑا سادہ سا کلیہ ہے ، جس طرح تنخواہ ھنر کے مطابق ملتی ہے ، اسی طرح مارکیٹ کے اصولوں کے مطابق عالمی منڈی میں عزت اور منافع ملکی ساکھ کے حساب سے ملتا ہے-
اس لئے صنعت اور ٹیکنالوجی سے پہلے بہتر ملکی ساکھ ضروری ہے- اور ملکی ساکھ کے لئے عوامی رویے اور برتاؤ میں سلجھاؤ ضروری ہے- بھارت کی مثال لے لیں ، چین کو سامنے رکھ لیں، فرانس کو دیکھ لیں ، برطانیہ پر نظر مار لیں ، اندرونی مسائل اور حالات کیسے بھی ہوں ، بیرونی ساکھ کو بچائے رکھنے کے لئے ہر حربہ استعمال کرتے ہیں – کسی بھی بڑے کاروبار یا صنعتی یونٹ کی ترقی کھ لئے 70% اور 30% کی نسبت سے بجٹ بنتا ہے- تیس فیصد پراڈکٹ کی برانڈنگ کے لئے اور 70% پراڈکٹ بنانے کے لئے-
ہماری پالیسیاں معاشرتی رویوں کے برخلاف ہیں- ہمارا معاشرتی طرز عمل بہت بُرے طریقے سے پچکا ہوا ہے-
کسی صحت کی پالیسی کا غریب کو فائدہ نہیں ہو سکتا جب تک سرکاری ہسپتالوں میں قانون اور پروسیجر کی عملداری نہیں ہو گی- ہسپتالوں میں نہ دوائی ہے نہ لیبارٹی ٹیسٹ کی سہولت – وزارت صحت خود بھی اتنی ہی بیمار ہے جتنی قوم-
سبسیڈیاں ہیلی کاپٹر سے نوٹ گرانے کے مترادف ہے- پروسیجر بہتر کریں ، غریب کو اس کا حق مارکیٹ سے لے کر دیں، چور امراء سے چھین کر دیں –
ماضی میں اندھا دھند پرائیویٹ ٹی وی کے لائسنس دیئے گئے – عوام روز سات بجے ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر بے تکا گیان سنتے، نتیجہ سامنے ہے – ہر چیز کو اسی بے تکے گیان سے پرکھا جا رھا ہے- عوام کو لاحاصل بحثوں میں الجھا رکھا ہے اور اسے شعور کا نام دیا گیا ہے-
ماضی میں سی این جی کے بے تحاشا لائسنس نہ بانٹے گئے ہوتے تو آج چولہوں کے لئے گیس موجود ہوتی-
بینکوں سے دل کھول کر گاڑیاں خریدنے کے لئے قرضے دیئے- ملک میں گیس بھی ختم ہو گئی ، لوگ قرضے کے نیچے دب گئے اور ٹریفک کا بے ہنگم دباؤ الگ سے- موٹر سائیکل اندھا دھند بناتے جا رھے ہیں – اتنی مکھیاں نہیں جتنے اب موٹر سائیکل ہو چکے ہیں –
پاکستانی متوسط طبقے کے لئے نئی قرضے والی گاڑی، شادی ھال میں شادی، مہنگے سکولوں میں تعلیم ، برانڈڈ کپڑے گھریلو اخراجات پر اضافی بوجھ ہے – معاشرتی رسم و رواج نے متوسط طبقے کو رُلادیا ہے-
موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پانی دریاؤں میں مسلسل کم ہو رھا ھے- جب گلئشر پگھلتے ہیں یا بارشیں زیادہ ہوں تو سیلاب آ جاتا ہے کوئی سٹوریج کا انتظام نہیں – تھر ،ھمیشہ قحط سالی کا شکار رہتا ھے-کالا باغ ڈیم کی مخالفت کرنے والے دنیا سے چلے گئے یا جانے والے ہیں – اور اب موجودہ نسل پانی کو ترس رہی ھے-
سیوریج کا نظام تمام بڑے شہروں میں تقریبا بند ہو چکاہے- کچرا، مکھیاں اور مچھر اسی سیورج کے نظام کی دین ہے- کچرے کے ڈبے کے استعمال کا ہمیں شعور ہی نہیں-
پچھلے پندرہ سال سے ڈینگیی اور سموگ ہر سال باقاعدگی سے ایسے آتے ھے جیسے صبح وقت پر سکول شروع ہوتا ہے-
پرائیویٹ سکول اور یونیورسٹیوں کے بے تحاشا لائسنس دے کر تعلیم اور بے روزگاری دونوں کو نقصان پہنچایا-لیکن طلباء کے کامن سینس کو بہتر کرنے کے لئے کوئی تعلیمی اصطلاح عمل میں آ سکی-
ھاؤسنگ سوسا ئیٹیوں کی اندھا دھند اجازت دی – لوگ بھی لٹے، زمینیں بھی گئیں اور ایک اور طاقتور مافیا ملک میں پیدا ھو گیا –
حکومتوں نے بجلی مہنگی خرید ی ، واپڈا نے اپنے ہاتھوں سے چوری کروائی، نہ ٹرانسمیشن لائنیں تھیں نہ قرضوں کا انتظام اور اب سولر پینل کو پروموٹ کر رھے ہیں اور بجلی کی قیمت بھی ادا کر رھے ہیں –
پرائیویٹ ٹرانسپورٹ مافیا، ریلوے کو کھا گئی-
پوسٹل سروس کو بھی رکھا اور پرائیویٹ پوسٹل سروس کمپنیاں بھی رہنے دیں – ڈاکخانے کے سارے محکمے کی تنخواہیں اور باقی مینٹینس اب اضافی بوجھ ھے-
کسان کو کہ رھے ہیں گندم اور چاول نئے طریقے سے اگاؤ، زیادہ اگے گی اور حکومت اب خرید نہیں رھی-
باسمتی، گوشت، پیاز، کیلا ایکسپورٹ کر کے ملک میں ان کی قیمیتیں آسمان تک پہنچا دیں اور امپورٹ بل بھی غیر متوازن کر دیا-
ہم آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی لیبارٹی بن چکے ہیں – وہ سارے تجربے ہمارے اوپر کر کے دنیا کو نتائج سے آگاہ کرتے ہیں کہ ملک اس طرح تباہ ہوتے ہیں-
ہمارے ہاں ، اس سے بڑی غیر ذمہ داری کیا ہو گی کہ قوم کو اپنے تحفظ سے بیگانہ کر کے اپنے ہی محافظوں کے خلاف کر دیا گیا ہے-
قربانی کی کھالیں صدقہ زکوات ، مستحقین کا حق ہے لیکن یہ مذھبی تنظیموں ، رفاہی ادارے ، مدرسے لے اڑتے ہیں-
بھکاری مافیا کی اکانومی ایک الگ داستان ہے- سمگلنگ کی اکانومی کی کہانی بہت لمبی ہے-
معاشرے کی سوچ کو بدلنا ریاست کو ماڈرن بنانے سے کہیں زیادہ ضروری ہے
۰-۰-۰-
ڈاکٹر عتیق الرحمان