ہمیں کچھ علم نہیں ھمارے ساتھ کیا ھو رھا ھے- اور یہی وجہ ھے کہ ہمارے ساتھ ہاتھ ہو رھا ھے-چین کے شہر سوزو میں ایک ایکسپریس وے کے پھسلن والے حصے پر درجنوں کاریں آپس میں ٹکرا گئیںسیاسی طوفان؛ کم ھو گا یا زیادہ؟کینیڈا میں کیلگری کے ایک طالب علم ھفتے میں دو بار وینکوور تعلیم حاصل کرنے کے لئے ھوائی جہاز سے سفر کرتے ہیںھون کی کرنا اے ؟مشرق وسطی کا بحرانکچھ سمجھ نہیں آئی ، یہ ھوا کیایمن کے حوثی باغیوں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بحیرہ احمر میں چار امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنایا۹ فروری ۲۰۲۴خضدار پی پی آفس پر بم حملہپشین دھماکہہلاکتوں کی تعداد 17 ہو گئیالیکشن 2024، پرامن انعقاد کیلئے سیکورٹی اھلکار تعینیاتحکومت پاکستان الیکشن کے دن انٹرنیٹ بند نہیں کرے گی؛ پی ٹی اےنئ ریساں شہر لاھور دیاںآئی ایم ایف نے صنعتی شعبے پر سبسڈی کے بوجھ کو 91 فیصد تک کم کرنے کے لیے SIFC کی تجویز پر نظرثانی کرنے پر اتفاق کیا ہےمغربی ادب اور بھارتی سینمارواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ کم ہو کر 13.1 بلین ڈالر رہ گیاغزہ کی کہانی ؛ لاکھوں بچوں کی قربانیامریکہ نے شام پر حملہ کردیا- اس وقت ھوائی حملہ جاری ھے؛ ایرانی میڈیاالیکشن ۲۰۲۴ کیسا ھو گا؟بشری بی بی کو اڈیالہ جیل کی بجائے بنی گالہ میں ہی انکی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دیکر شفٹ کر دیا گیا۔ وہ اپنے گھر میں ہی قیام کریں گی-

برسلز: بیلجیئم، مراکش فٹبال میچ کے بعد ہنگامے، ڈیڑھ درجن نوجوان گرفتار

ورلڈ کپ فٹبال میچ میں بیلجیئم کے خلاف مراکش کی کامیابی کے بعد یورپین دارالحکومت برسلز میں ہونے والے ہنگاموں کے دوران پولیس نے ڈیڑھ درجن کے قریب نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے۔سینٹرل زون پولیس کے ذرائع نے گرفتاریوں کی تصدیق کی اور بتایا کہ یہ فساد اس وقت شروع ہوا تھا، جب مراکش کی 2 گول سے کامیابی کے بعد مراکشی کمیونٹی کے نوجوانوں نے جشن منانے کے لیے برسلز کے سینٹرل علاقے کا رخ کیا۔کچھ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مراکش کے پرچموں کے ساتھ 100 کے قریب نوجوان پہلے ہی سے وہاں موجود تھے اور وہ مختلف جگہ پر میچ دیکھ رہے تھے۔میچ کے آگے بڑھنے کے ساتھ ہی ان نوجوانوں میں غصے اور جیت کی خوشی کے آثار برابر نظر آرہے تھے، غصہ انہیں ریفری کی جانب سے بیلجیئم کے خلاف گول کینسل کرنے پر تھا۔بعد میں اپنی خوشی کے اظہار کےلئے انہوں نے جو طریقہ اختیار کیا اس پر پولیس نے مزاحمت کی اور انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی۔جس کے جواب میں نوجوانوں نے پبلک پراپرٹیز کو نقصان پہنچانا شروع کردیا اور ای موبیلیٹی کےلیے جگہ جگہ کھڑی ہوئی ٹروٹی نیٹ کو آگ لگا دی۔اس صورتحال کے بعد شہر کی جانب جانے والی تمام ٹریفک انتہائی بری طرح متاثر ہوئی اور لوگ گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہے کیونکہ یہاں تعمیراتی کام جاری ہونے کی وجہ سے پہلے ہی راستے انتہائی تنگ ہیں اور صرف سنگل لائن ٹریفک چل رہی ہے۔

You might also like