ہمیں کچھ علم نہیں ھمارے ساتھ کیا ھو رھا ھے- اور یہی وجہ ھے کہ ہمارے ساتھ ہاتھ ہو رھا ھے-چین کے شہر سوزو میں ایک ایکسپریس وے کے پھسلن والے حصے پر درجنوں کاریں آپس میں ٹکرا گئیںسیاسی طوفان؛ کم ھو گا یا زیادہ؟کینیڈا میں کیلگری کے ایک طالب علم ھفتے میں دو بار وینکوور تعلیم حاصل کرنے کے لئے ھوائی جہاز سے سفر کرتے ہیںھون کی کرنا اے ؟مشرق وسطی کا بحرانکچھ سمجھ نہیں آئی ، یہ ھوا کیایمن کے حوثی باغیوں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بحیرہ احمر میں چار امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنایا۹ فروری ۲۰۲۴خضدار پی پی آفس پر بم حملہپشین دھماکہہلاکتوں کی تعداد 17 ہو گئیالیکشن 2024، پرامن انعقاد کیلئے سیکورٹی اھلکار تعینیاتحکومت پاکستان الیکشن کے دن انٹرنیٹ بند نہیں کرے گی؛ پی ٹی اےنئ ریساں شہر لاھور دیاںآئی ایم ایف نے صنعتی شعبے پر سبسڈی کے بوجھ کو 91 فیصد تک کم کرنے کے لیے SIFC کی تجویز پر نظرثانی کرنے پر اتفاق کیا ہےمغربی ادب اور بھارتی سینمارواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ کم ہو کر 13.1 بلین ڈالر رہ گیاغزہ کی کہانی ؛ لاکھوں بچوں کی قربانیامریکہ نے شام پر حملہ کردیا- اس وقت ھوائی حملہ جاری ھے؛ ایرانی میڈیاالیکشن ۲۰۲۴ کیسا ھو گا؟بشری بی بی کو اڈیالہ جیل کی بجائے بنی گالہ میں ہی انکی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دیکر شفٹ کر دیا گیا۔ وہ اپنے گھر میں ہی قیام کریں گی-

‏Political Discourse Biggest Issue

‏ سیاسی گفتگو کی انگلش کریں تو political discours بنتی ہے- ریاستی امور کی کامیابی کے لئے درست فیصلوں ، اور وسائل کی فراہمی کے ساتھ ساتھ صیحح پولیٹیکل ڈسکورس اہم جزو ہے- سیاستدان اقتدار میں ہو یا اپوزیشن ان کا پولیٹیکل ڈسکورس ذمہ دار نہ ہونا چاھیے-
‏ہمارا political discourse زمینی حقائق سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا جس کی وجہ سے عوام میں بے چینی بڑھ رھی ہے اور امور مملکت چلانے والوں پر عدم اعتمادبھی –
‏جب پی ٹی آئی کی حکومت تھی ، نون لیگ کا political discourse بہت الجھا ہوا تھا-جب پی ٹی آئی اقتدار سے علیحدہ ہوئی تو پی ٹی آئی نے وہی غلطی کی –
‏سیاسی دھڑے سول سپرامیسی کا نعرہ لگا کر establishment پر تنقید کرتے ہیں اور لیکن اپنی سیاسی طاقت بڑھانے کے لئے establishment کی مدد بھی مانگتے ہیں ۔ یہ تضاد نہ سیاست کو تقویت بخشتا ہے، نہ ریاست اور نہ اداروں کو-
‏ تمام بڑے سیاسی دھڑوں کا مطمعہ نظر establishment کی خوشنودی ہے- جب پاکستان کے سیاسی ڈھانچے میں ساستدانوں اور establishment کا ایک دوسرے پر انحصار اتنا اہم ھے تو پھر یہ پالیسی کیوں- یہ political discourse ہماری سیاست کا بہت بڑا المیہ اور ترقی کی راہ میں روکاوٹ ہے-
‏ یہ ایک معمہ ھے کہ طاقت کا حصول establishment کے ذریعے اور تنقید بھی establishment پر۔
‏ خان صاحب پش اینڈ پل کی پالیسی پر عمل پیرا پیں- اشتعال انگیز بیانات اور پس پردہ فوج کی ہمددردیاں حاصل کرنے کے لئے تگ و دو-