ہمیں کچھ علم نہیں ھمارے ساتھ کیا ھو رھا ھے- اور یہی وجہ ھے کہ ہمارے ساتھ ہاتھ ہو رھا ھے-چین کے شہر سوزو میں ایک ایکسپریس وے کے پھسلن والے حصے پر درجنوں کاریں آپس میں ٹکرا گئیںسیاسی طوفان؛ کم ھو گا یا زیادہ؟کینیڈا میں کیلگری کے ایک طالب علم ھفتے میں دو بار وینکوور تعلیم حاصل کرنے کے لئے ھوائی جہاز سے سفر کرتے ہیںھون کی کرنا اے ؟مشرق وسطی کا بحرانکچھ سمجھ نہیں آئی ، یہ ھوا کیایمن کے حوثی باغیوں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بحیرہ احمر میں چار امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنایا۹ فروری ۲۰۲۴خضدار پی پی آفس پر بم حملہپشین دھماکہہلاکتوں کی تعداد 17 ہو گئیالیکشن 2024، پرامن انعقاد کیلئے سیکورٹی اھلکار تعینیاتحکومت پاکستان الیکشن کے دن انٹرنیٹ بند نہیں کرے گی؛ پی ٹی اےنئ ریساں شہر لاھور دیاںآئی ایم ایف نے صنعتی شعبے پر سبسڈی کے بوجھ کو 91 فیصد تک کم کرنے کے لیے SIFC کی تجویز پر نظرثانی کرنے پر اتفاق کیا ہےمغربی ادب اور بھارتی سینمارواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ کم ہو کر 13.1 بلین ڈالر رہ گیاغزہ کی کہانی ؛ لاکھوں بچوں کی قربانیامریکہ نے شام پر حملہ کردیا- اس وقت ھوائی حملہ جاری ھے؛ ایرانی میڈیاالیکشن ۲۰۲۴ کیسا ھو گا؟بشری بی بی کو اڈیالہ جیل کی بجائے بنی گالہ میں ہی انکی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دیکر شفٹ کر دیا گیا۔ وہ اپنے گھر میں ہی قیام کریں گی-

موسمیاتی شدت میں اضافےسے50 برسوں میں دنیا کو کتنا نقصان پہنچا ?تشویشناک تفصیلات سامنے آ گئیں

راولپنڈی (نیوز ڈیسک )موسمیاتی شدت میں اضافےسے50 برسوں میں  دنیا کو کتنا نقصان پہنچا ، تفصیلات سامنے آ گئیں ۔   اقوام متحدہ کے عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ موسمیاتی شدت کے باعث 1970 سے 2021 کے دوران لگ بھگ 12 ہزار سانحات میں 20 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔”جیو نیوز ” کے مطابق عالمی موسمیاتی کانگریس کے آغاز کے موقع پر ڈبلیو ایم او کی جانب سے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ پیش کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق موسمیاتی سانحات کے باعث دنیا بھر کے ممالک کو 51 سال کے دوران 4300 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا۔عالمی ادارے کا کہنا تھا کہ 90 فیصد اموات ترقی پذیر ممالک میں ہوئیں۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اور ارلی وارننگ سسٹمز میں بہتری کے باعث اس طرح کے سانحات میں اموات کی شرح میں اب کمی آرہی ہے، مگر اب بھی خطرے سے دوچار ممالک کو موسم، ماحول اور پانی سے متعلق سانحات کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔سوئٹزر لینڈ میں ہونے والی اس 12 روزہ کانگریس کا مقصد 2027 تک زمین میں رہنے والے ہر فرد تک ارلی وارننگ سروسز کی رسائی کو یقینی بنانا ہے۔رپورٹ کے مطابق موسمیاتی واقعات کے نتیجے میں 47 فیصد اموات ایشیاء میں ہوئیں اور اس حوالے سے بنگلادیش سب سے زیادہ متاثر ملک ہے، جہاں 281 واقعات میں 5 لاکھ 20 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ موسمیاتی سانحات کے باعث 60 فیصد سے زیادہ اقتصادی نقصان ترقی یافتہ ممالک کو ہوا مگر بیشتر واقعات میں یہ نقصان ان کے جی ڈی پی کے محض 0.1 فیصد کے برابر تھا۔

WMO

ClimateChange

You might also like