‏نئے مالی سال 2024-25 کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا‏یورپی سیّاح ، پیدل سفر کر کے شمالی علاقوں میں پہنچ گئےبند صندوقRegressive Mindsetبیوپار یا لاحاصل بحث : جان کر جیوذھانت، طاقت اور ریاستمارگلہ کی پہاڑیوں پر آگ کیوں لگتی ہے؟بھارتی بزنس میں کی اھلیہ کے لئے پینے کا صاف پانی فرانس اورفجی کے قدرتی چشموں آئیس لینڈ کے گلیئشئر کو ملا کر تیار کیا جاتا ہے- سات سو پچاس ملی گرام پانی کی بوتل کی قیمت بھارتی روپے میں انچاس لاکھ روپے ھے-‎آئی سی سی ٹی20 ورلڈکپ میں بیس ٹیمیں حصہ لیں گی- افتتاحی تقریب آج نیویارک میں ہوگی – پاکستان اور بھارت کا میچ ۹ جون کو ہو گا-پہلا میچ آج امریکا اور کینیڈا کی ٹیموں کے درمیان کھیلا جائے گا-‏ملالہ یوسف زئی کی برطانوی ویب سیریزامریکی عدالت نے سابق صدر ٹرمپ کو مجرم قرار دے دیا- سزا گیارہ جولائی کو سنائی جائے گیعمران خان آفیشل ایکس ہینڈل سے شیخ مجیب الرحمان کی پروپیگنڈا ویڈیو اپ لوڈ کرنے پر ایف آئی اے سائبر وِنگ کا انکوائری کا فیصلہ, ذرائع۱۹۷۱ کی کہانی : ایک تحقیقی مکالہ‏فوج کے ماتحت فلاحی اداروں کے ٹیکس اور اخراجات بارے میرے سوال پر ترجمان افواج پاکستان میجر جنرل احمد شریف نے پاک فوج اور اس کے فلاحی اداروں کی طرف سے ادا کیے جانے والے ٹیکسز کی تفصیلات بھی پیش کردیںفوج‏فوج کے ماتحت فلاحی اداروں کے ٹیکس اور اخراجات بارے میرے سوال پر ترجمان افواج پاکستان میجر جنرل احمد شریف نے پاک فوج اور اس کے فلاحی اداروں کی طرف سے ادا کیے جانے والے ٹیکسز کی تفصیلات بھی پیش کردیںسینٹکام کے کمانڈر جنرل مائیکل ایرک کوریلا کا جی ایچ کیو کا دورہ، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات، باھمی دلچسپی کے امور بالخصوص علاقائی سلامتی کے معاملات میں تعاون پر تبادلہ خیالLeadership Dilemmaنیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں پاک برطانیہ علاقائی استحکام کے موضوع پر چھٹی (6)کانفرنس منعقد ہوئیچین کے بڑے شہر اپنے ہی وزن سے دب رھے ہیںTransformation of Political Conflictوفاقی کابینہ نے نجی یونیورسٹیوں اور دیگر تمام اداروں کیلئے لفظ نیشنل استعمال کرنے پر پابندی عائد کردی

رچرڈ نکسن کی ” لیڈرز”

ورلڈ وار ون کی تباھی سے دنیا ابھی پوری طرح سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ ورلڈ وار ٹو نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا- ورلڈ وار ٹو میں جرمنی، فرانس، جاپان، تباھی کی زد میں آئے اور جنگ کے بعد امریکہ اور روس میں شروع ہونے والی کولڈ وار نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا- جیو پالیٹکس ، کولڈ وار دور کی ہی سوچ ہے- اسی دور میں rationale choice کا آغاز ہوا اور خارجہ پالیسیاں دباؤ کا شکار ہوئیں- یہی وہ مشکل دور ہے جس میں ونسٹن چرچل، ڈیگال، یوشیدہ، ایڈنار، ژواین لائی، ماؤزے تنگ، خروشیف اور برزنیف جیسے لیڈروں نے دنیا کو اندھیروں سے نکالنے کی جدوجہد شروع کی- چین، جاپان، روس، امریکہ، برطانیہ کے یہ لیڈر اپنی قوموں کو دوام بخش گئے-
امریکی سابقہ صدر رچرڈنکسن کی تصنیف
‏” Leaders” اپنے وقت کے پراثر عالمی لیڈروں کی سوچ اور زندگیوں کا احاطہ کرتی ہے- ورلڈ وار ٹو کے بعد ان عالمی لیڈروں نے دنیا کو نئے سرے سے ترقی کی راہ پر ڈالا- مغرب معاشرے ترقی کر گئے اور مشرق اسی ادھیڑ بن میں رھا کہ ہم نے کس کا ساتھ دینا ہے- آج ہم اسی ادھیڑ بن کا خراج ادا کر رھے ہیں –
افراتفری کے آج کے دور میں عالمی اور قومی سطح کے بحرانوں سے نمٹنے کے لئے جس دانشمند قیادت کی دنیا کو ضرورت وہ ناپید ہے- یا شاید یہ کہنا بھی بجا ہے کہ موجودہ بحران پیدا ہونے کی وجہ عالمیاور ملکی قیادت میں دور اندیشی کا فقدان، مسئال کے حل کے لئے غیر سنجیدہ رویہ اور غیر ضروری اھداف کا تعین ھے-
رچرڈ نکسن اپنی کتاب ” لیڈرز” میں لکھتے ہیں کہ عظیم قیادت دراصل ایک منفرد فن ھے جس کے لئے نہ صرف بے انتہا طاقت بلکہ اولین مقصد بھی درکار ھوتا ھے۔
لیڈر کی سوچ کا دائرہ نہ ھی محدود ھوتا ھے اور نہ ھی غیر لچکدار کیونکہ اس کا ھدف شخصی نھی عوامی مفاد ھوتا ھے۔ اس کا مطمع نظر لاکھوں ،کروڑوں زندگیوں کی حفاظت اور ان کو روز مرہ زندگی کے وسائل مہیا کرنا ھے –
یہ صیح ھے کہ ریاست کی ترقی کا دارو مدار ، اداروں کی مضبوطی میں پنہاں ھے۔ لیکن آپ جرمنی کی انجیلا مرکل ، برطانیہ کی مارگریٹ تھیچر ،موجودہ چینی صدر شی جنگ کی شخصیت اور ۱ن کے سیاسی کردار کو سامنے رکھیں تو اندازہ ھو گا کہ لیڈر کی شخصیت کس قدر ملکی ترقی پر اثر انداز ھوتی ھے۔
وہ قومیں بہت خوش قسمت ھوتی ہیں جن کی سیاسی قیادت اکٹھے ھو کر ان کے مفاد لئے سوچے۔ مشہور کتاب ” قومیں کیوں فیل ھوتی ہیں ” میں اسی غلطی کی نشاندھی کی گئی ھے کہ عوامی مفاد کے لئے فیصلے نہ کرنا قوموں کے زوال کی سب سے بڑی وجہ ھے۔
پاکستان کی سیاست بہت خطرناک طریقے سے بٹی ھوئی ھے اور اس کی بڑی وجہ ذاتی سیاسی مفادات ہیں۔
رچرڈ نکسن نے اپنی کتاب میں جن عظیم لیڈروں کے کردار کا احاطہ کیا ھے۔ ان سب میں ایک چیز مشترک تھی۔ وہ اپنے ملک اور عوام کے لئے بے لوث خدمت کا جزبہ رکھتے تھے اور اپنے ملک اور قوم کے لئے کوئی بھی قربانی دینے کو تیار تھے۔ان عظیم لیڈروں نے اپنے ملکوں اور قوموں کو مشکلات سے نکالنے کے لئے خود غرضی کی چادر پھینک کر انتہائی جزبے سے کام کیا۔

رچرڈ نکسن ، چرچل کا ذکر کرتے ھوئے لکھتے ہیں ونسٹن چرچل نے کبھی بھی ذاتی مفاد کے لئے طاقت کی جستجو نھی کی ، چرچل کا مطمعہ نظر ھمیشہ قومی اور ملکی مفاد تھا اور یہی اس کی کامیابی کا راز تھا۔
فرانس کے صدر چارلس ڈیگال کا ذکر کرتے ھوئے نکسن لکھتے ہیں ڈیگال ایک انتہائی بے غرض اور مضبوط کردار کے لیڈر تھے- دس سال سے زائد عرصہ فرانس کے صدر رھے ، ھمیشہ فرانس اور فرانسیسی عوام کا مفاد مد نظر رکھا – ترقی یافتہ فرانس کی داغ بیل ڈالی
جنرل ڈگلس مکارتھر جو کہ امریکی تھے لیکن جنگ عظیم دوئم کے بعد ان کو جاپان کی نئے سرے سے تعمر وترقی کا کام ملا جسے انہوں نے آٹھ سال کے انتہائی قلیل وقت میں بے لوث جزبے سے دن رات محنت کر کے پورا کر دیا۔
کیا خود غرضی کی چادر میں لپٹی ھماری سیاسی قیادت کی بے حسی ھمارے روشن مستقبل کا تعین کرپائے گی۔ کیا روزانہ کا شکوہ اور جواب شکوہ ان مسائل کا حل ہے۔

مشکل حالات سے نکلنے کے لئے لیڈر کا کردار بہت اھم ھوتا ھے۔ لیڈر مسائل کی وجہ نھیں ، مسائل کا حل بنتے ہیں۔وسیع سوچ اور دور اندیشی لیڈر کا طرہ امتیاز ھے۔ لیڈر ماضی سے سبق سیکھتا ھے، موجودہ حالات کا تجزیہ کرتا ھے اور پھر مستقبل لا لائحہ عمل تیار کرتا ھے۔
۰-۰-۰-۰-
ڈاکٹر عتیق الرحمان