ہمیں کچھ علم نہیں ھمارے ساتھ کیا ھو رھا ھے- اور یہی وجہ ھے کہ ہمارے ساتھ ہاتھ ہو رھا ھے-چین کے شہر سوزو میں ایک ایکسپریس وے کے پھسلن والے حصے پر درجنوں کاریں آپس میں ٹکرا گئیںسیاسی طوفان؛ کم ھو گا یا زیادہ؟کینیڈا میں کیلگری کے ایک طالب علم ھفتے میں دو بار وینکوور تعلیم حاصل کرنے کے لئے ھوائی جہاز سے سفر کرتے ہیںھون کی کرنا اے ؟مشرق وسطی کا بحرانکچھ سمجھ نہیں آئی ، یہ ھوا کیایمن کے حوثی باغیوں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بحیرہ احمر میں چار امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنایا۹ فروری ۲۰۲۴خضدار پی پی آفس پر بم حملہپشین دھماکہہلاکتوں کی تعداد 17 ہو گئیالیکشن 2024، پرامن انعقاد کیلئے سیکورٹی اھلکار تعینیاتحکومت پاکستان الیکشن کے دن انٹرنیٹ بند نہیں کرے گی؛ پی ٹی اےنئ ریساں شہر لاھور دیاںآئی ایم ایف نے صنعتی شعبے پر سبسڈی کے بوجھ کو 91 فیصد تک کم کرنے کے لیے SIFC کی تجویز پر نظرثانی کرنے پر اتفاق کیا ہےمغربی ادب اور بھارتی سینمارواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ کم ہو کر 13.1 بلین ڈالر رہ گیاغزہ کی کہانی ؛ لاکھوں بچوں کی قربانیامریکہ نے شام پر حملہ کردیا- اس وقت ھوائی حملہ جاری ھے؛ ایرانی میڈیاالیکشن ۲۰۲۴ کیسا ھو گا؟بشری بی بی کو اڈیالہ جیل کی بجائے بنی گالہ میں ہی انکی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دیکر شفٹ کر دیا گیا۔ وہ اپنے گھر میں ہی قیام کریں گی-

رجب طیب ایردوآن دوبارہ صدر منتخب

راولپنڈی (ویب ڈیسک )ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن اتوار کے روز ہونے والے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں اپنی کامیابی کے باضابطہ اعلان سے چند قدم کی دوری پرہیں۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی اناطولو کے مطابق دوسرے مرحلے میں 97 فی صد بیلٹ بکس کھلنے کے بعد ایردوآن نے 52.1 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں اور ان کے حریف کمال کلیچ داراوغلو کے حق میں 47.9 فیصد ووٹ ڈالے گئے ہیں۔حزب اختلاف کی خبر رساں ایجنسی انکا کے اعداد و شمار کے مطابق انھیں 93 فی صد بیلٹ بکسوں کی گنتی کے بعد برتری حاصل ہے۔ ترکیہ کے ہائی الیکشن بورڈ کے سربراہ نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ایردوآن 54.47 فی صد ووٹوں کی حمایت کے ساتھ اپنے حریف کمال کلیچ داراوغلو سے آگے ہیں۔صدرایردوآن کی حکمراں جماعت آق کے ترجمان عمر چیلک نے الگ سے ایک بیان میں کہا کہ صدر اپنی مضبوط حمایت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔اس فتح سے طیب ایردوآن کے دو دہائیوں پر محیط دور حکومت میں توسیع ہو گی اور وہ اپنی بڑھتی ہوئی مطلق العنان حکومت کو جاری رکھنے کا مینڈیٹ حاصل کریں گے۔اس نے ترکیہ میں ایک حد تک تقسیم پیدا کی لیکن علاقائی فوجی طاقت کے طور پر اس کی پوزیشن کو مضبوط کیا ہے۔ ساڑھے آٹھ کروڑ کی آبادی والے نیٹو کے رکن ملک ترکیہ میں داخلی، اقتصادی، سلامتی اور خارجہ پالیسی کو از سرِنو ترتیب دینے کے بعد، یہ فتح صدرایردوآن کے ناقابل تسخیر تشخص کو تقویت دے گی۔ملک کو زیادہ جمہوری اور تعاون کی راہ پر گامزن کرنے کا وعدہ کرنے والے کلیچ داراوغلو کی شکست پر ماسکو میں خوشی کا اظہار کیا جائے گا لیکن ترکیہ کی جانب سے خارجہ امور میں زیادہ محاذ آرائی اور آزادانہ مؤقف اختیار کرنے کے بعد مغربی دارالحکومتوں اور مشرق اوسط کے بیشتر حصوں میں سوگ کی کیفیت ہوسکتی ہے۔دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے ترکیہ پر حکمران طیب ایردوآن اپنی غیر روایتی پالیسیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران اور کرنسی کے بحران کے باوجود پانچ سال کا نیا مینڈیٹ حاصل کرنے کی راہ پر گامزن نظر آئے ہیں جبکہ حزب اختلاف نے ان کی جیت کو تسلسل کو روک لگانے کا وعدہ کیا تھا۔تجزیہ کاروں نے ووٹنگ کے بعد مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کی پیشین گوئی کی ہے جبکہ کچھ لوگوں نے انتخابات کو اس بات کا امتحان قرار دیا تھا کہ آیا ایسے مطلق العنان رہنما کو پرامن طریقے سے ہٹایا جا سکتا ہے یا نہیں۔تاہم 14 مئی کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے سے قبل رجب طیب ایردوان نے کہا تھا کہ وہ جمہوریت کا احترام کرتے ہیں اور آمرہونے سے انکار کرتے ہیں۔واضح رہے کہ 14 مئی کو ترکیہ میں منعقدہ صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں ان دونوں میں سے کوئی بھی امیدوار جیت کے لیے درکار50 فی صد ووٹ نہیں لے سکا تھا۔

RecepTayyipErdoğan

PresidentElections

Turkey

You might also like