کہیں پہ نگاہیں ، کہیں پہ نشانہ

194

موجودہ سیاسی اور معاشی بحران کی قصور وار پی ٹی آئی کی قیادت ھے یا حکومت – اقتدار میں تبدیلی آئینی اور سیاسی ھے اور معاشی بحران پچھلے پچھتر سال کی پالیسیوں اور موجودہ دور کی عالمی سیاست کی پیداوار ھے اور تنقید پاک فوج پر ھو رھی ھے-
سیاسی ناقدین اور مبصرین سے سوال ھے کہ آپ پی ٹی آئی کی لیڈرشپ سے مخاطب کیوں نھی ھوتے؟ ان سے پچھلے چار سال کی کارکردگی کا حساب کیوں نھی مانگتے ؟ آپ ھی لوگ نالاں تھے کہ عمران خان سلیکٹڈ ھے، نا اھل ھے؟
لیکن آجکل سوشل میڈیا پر ٹرالز کے علاوہ مبصرین کا ایک گروہ پی ٹی آئی کی بجائے فوج پر بے جا تنقید میں مشغول ھے۔ اور عوام کو اصل صورتحال نھیں بتا رھا -بلکہ ایک منصوبہ بندی کے تحت جھوٹ گڑھے جا رھے ہیں عوامی جزبات کو بھڑکایا جا رھا ھے- ناقدین کے سوال ملک کے سیاسی حلقوں اور نامور صحافیوں کے سامنے رکھنے چاھیں ، جو چار سال تک یھی شور کرتے رھے کہ عمران خاں سیلیکٹڈ ھے اور نا اھل ھے- کیا یہ سچ نھی ؟ اگر ایسا تھا تو عوام کو اس بارے میں آگاھی دینی چاھیے- فوج پر بلا وجہ تنقید کیوں ؟۔کیاصحافی برادری کی پی ٹی آئی پرتنقید ناجائز تھی؟۔ کیا ان کا چار سال سے جاری واویلا غلط تھا؟
عمران خاں ایوان اقتدار سے نکلتے ہی دوبارہ محاذ آرائی کی سیاست میں مشغول ھو گئے ہیں ۔ تگڑے کھلاڑی رہ چکے ہیں، جارحانہ طرز زندگی ان کا معمول ھے- تقرییباپچھلے آٹھ سال سے خاں صاحب نہ ملک کو چلنے دے رھے ہیں نہ چلا رھے ہیں۔ کرپشن کے خلاف نعرےلگاتے ایوان اقتدار میں پہنچے اور تمام بدعنوان کو بھی ساتھ لیتے آئے۔ تبدیلی کیا لانی تھی ، کوئی منصوبہ تھا نہ ٹیم- ملک تو چلا نھیں پائے۔ سیاست کو بھی تتر بتر کر دیا۔ اب ملک میں سیاست کم اور ٹی- ۲۰ میچ زیادہ لگ رھا ھے- سمجھ نھی آ رھی کہ امریکہ عمران خان کو کیوں ھٹائے گا ؟ عمران خان کے امریکہ کے دورے کی تصاویر دیکھ تو نھی لگتا کہ وہ عمران حکومت سے ناراض تھے- حکومت میں رھتے ھوئے خاں صاحب امریکہ کے زیادہ فائدے میں تھے۔
اپنے چار سالہ اقتدار میں عمران خان نے قرضوں کا انبار لگا دیا- اتنا ادھار لیا کہ قرضے دینے والے بھی حیران ھونے لگے کہ مبادا یہ پیسے زمین میں تو نھی دبا رھے- خان صاحب کی سوشل میڈیا ٹیم بہت تگڑی ھے- خان صاحب بھلے قرضہ ھی کیوں نہ مانگنے جا رھے ھوں، سوشل میڈیا ٹیم ان کو ایک ایسا ھیرو پیش کرتی ھے جو صرف التغرل میں ھی نظر آتا ھے-
خان صاحب نے چار وزیر خزانہ تبدیل کئے، چلنے ایک کو بھی نھی دیا۔ شہزاد اکبر احتساب اور فیصل ووڈا وزیر پانی اور طاقت تھے آپ اندازہ لگا لیں اھلیت اور ایمانداری کا۔ پی ٹی وی ھو یا کرکٹ بورڈ ، ھر طرف محنت کر کے اداروں کو ڈبویا۔ شاہ محمود ، مراد سعید، بزدار، شبلی فراز، اعظم سواتی، پرویز خٹک، خسرو بختیار اور بہت سے دوسرے خاں صاحب کے ساتھ اقتدار کے مزے بھی لوٹتے رھے اور ان کو سمجھ بھی نھی آنے دی کہ ماجرا کیا ھے۔ سنا ھے کہ خسرو صاحب اجکل امریکہ میں مقیم ہیں – پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم روز صبح فوج مخالف ٹویٹر ٹرینڈ نکالتی ھے- اور یہ بھی سنا ھے کہ ٹویٹر ٹرینڈ کے الفاظ کا چناؤ اعلی قیادت کرتی ھے-
پاکستان کے مسائل معاشرتی ، سیاسی اور جغرافیائی محل وقوع کا نتیجہ ہیں۔ مسائل بہت پیچیدہ ہیں جس کی ذمہ داری کسی ایک سیاسی پارٹی، ادارہ یا شخص پر نھیں ڈالی جا سکتی-مشرق میں بھارت اور مغرب میں افغانستان کا پاکستان کی سلامتی سے بہت گہرا تعلق ہے۔ معاشی طاقت مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہو رہی ہے اور زمینی سطح پر یوریشیا اور بحر ہند میں نیا گریٹ گیم کھیلا جا رہا ہے اور پاکستان ان خطوں کا گیٹ وے ہے۔ گوادر کی بندرگاہ پاکستان کو بحیرہ عرب کے ذریعے بحر ہند سے ملاتی ہے۔ پاکستان افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے واحد زمینی راستہ ہے۔ چین گوادر کے ذریعے بحر ہند سے جڑے گا- گوادر سی پیک کا فلیگ شپ پروگرام ہے۔ ہندوستان چاہ بہار کے راستے افغانستان اور اس سے آگے وسطعی ایشیائی ریاستوں سے رابطے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ رابطے کا یہ مقابلہ خطے میں ایک غیر مستحکم صورتحال پیدا کر نے کا موجب بن رھا ھے-
۲۰۱۸ میں عمران خان کے اقتدار میں آنے پر پورا ملک یا کم از کم نون اور پیپلز پارٹی سڑکوں پر نکل آئی اور فوج پر بے جا تنقید شروع ھو گئی کہ عمران خان کو الیکشن میں دھاندلی کر کے اقتدار میں لایا گیا ھے-
پچھلے چار سال سے ملک سیاسی انتشار میں مبتلاءھے-عمران خاں کا دور اقتدار سب کے سامنے ھے۔ معیشت اور گورننس کہاں پہنچ گئے۔ ملکی سیاست بند گلی تک پہنچ گئی تھی اور سبھی اس حکومت کی تبدیلی کے خواھاں تھے۔

تنقید کرنے والے شاید بھول جاتے ہیں کہ اس ملک میں بڑے سیاسی دھڑے کون ہیں اور کب تک اور کیوں کوئی ان کو روک کے رکھے گا۔ یہ دھڑے ۲۲ کروڑ عوام کی نمائندگی کرتے ہیں -اگر وہ دھڑے ایماندار نھی یا جو بھی وجہ ھو، ان کو سیاست سے باھر کر دینے کی ذمہ داری فوج کی موجودہ قیادت پر نھیں۔
پاکستان کی سیاسی صورتحال پچھلے چالیس برسوں سے پینڈولم کی طرح جھول رہی ہے لیکن حالیہ برسوں میں بیرونی مداخلت اور داخلی انتشار کی وجہ سے اس میں زیادہ تیزی آئی ہے۔

کمزور معیشت، توانائی کے مسائل، روزگار کی کمی اور ڈیجیٹل انقلاب، سیاسی بدامنی نے ملکی مسائل کو بہت پیچیدہ کر دیا ھے۔ ہمارا کمزور معاشی ڈھانچا اور پولرائزڈ معاشرہ بیرونی قوتوں کو دعوت عام دیتا ھے کہ آؤ اور اپنے مقاصد حاصل کر لو۔ ادھار کی رقم سے توانائی کی قلت پر بہت زیادہ لاگت اور فنڈنگ سے قابو پا لیا گیا ہے جس کا نتیجہ مہنگائی اور اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں نکلاہے، اس طرح عوام حکومت کے خلاف بھڑک اٹھی ھے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا ھے- توانائی کی فراہمی کے لئے گئے قرضوں کی واپسی اقتصادی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ سوشل میڈیا ایک نیا رجحان ہے جو مین اسٹریم میڈیا کے ساتھ مل کر سیاسی عدم استحکام کو ہوا دیتا ہے۔
مسئلہ اسٹیبلشمنٹ نہیں ہے، یہ بیرونی کھلاڑیوں اور اندرونی حماقتوں کا گٹھ جوڑہے۔ یہ دنیا کی واحد فوج ہے جس نے بیک وقت دو جنگیں لڑی ہیں اور جیتی ہیں۔ مسلح افواج کا مقصد سوشل میڈیا کارکنوں کے سیاسی مطالبات کو پورا کرنا نہیں ہے۔ جب بھی مادر وطن کے دفاع کی بات آتی ہے چاہے وہ بیرونی محاذ پر ہو یا اندرونی ذمہ داری ، پاک فوج ہمیشہ قوم کی توقعات پر پورا اتری ھے۔ سیاسی کھلاڑی اپنی سیاسی بنیاد کو مضبوط کرنے اور بات چیت کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کے بجائے الزام تراشی پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اور ھمارے میڈیا کے کچھ کردار اس آگ کو ھوا دیتے ہیں-
عمران خان یک طرفہ احتساب سے اپنے اقتدار کو طول دینا چاھتے تھے۔
احتساب اور انسداد بدعنوانی دو مختلف چیزیں ہیں۔ احتساب سیاسی مخالفین کے بازو مروڑنے کا سیاسی آلہ ہے۔ جبکہ انسداد بدعنوانی کا مقصد انتظامیہ میں بہتری اور موثر کام کرنا ہے۔ ہمیں انسداد بدعنوانی کے کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

بھارت نے جعلی اور مسخ شدہ خبروں کے ذریعے سیاسی ماحول میں خلل ڈالنے کے لیے رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کے لیے پروپیگنڈہ جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ کلبھوشن، ابی نندن، انڈین کرونیکلز، ایف اے ٹی ایف، را اور این ڈی ایس کا گٹھ جوڑ، بلوچستان میں دہشت گرد تنظیموں کی حمایت ہمارے ملکی معاملات میں بھارتی مداخلت کے حوالے سے چند مثالیں ہیں۔ حالیہ برسوں میں بھارتی سوشل میڈیا پاکستان میں سیاسی بے چینی کو ہوا دے رہا ہے۔ سوشل میڈیا کی مداخلت کسی ملک کی خودمختاری کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔ بھارت دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے کلچر کو فروغ دے رہا ہے۔ بلوچستان میں بھارت حکومت پاکستان کی طرف سے صوبے کی ترقی کے لیے شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کو متاثر کرنے کے لیے دہشت گرد تنظیموں کو ہوا دے رہا ہے۔

سیاسی استحکام حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے۔ سیاسی قیادت کو اس موقع پر ملک کو بحران سے نکالنے کے لئے یکجا ھو کر کوشش ہونا چاہیے۔ ایک قابل اعتماد لیڈر یکساں اہمیت کا حامل ہوتا ہے چاہے وہ حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں۔ فوج اور اس کی قیادت پر تنقید سے مسائل گھمبیر ھونگے نہ کہ آسان- ھمیں ایک ریاست کی طرح ذمہ داری سے آگے بڑھنا چاھئے-

Comments are closed.