وسیع دفاع کے تقاضے

0 47

عتیق الرحمان

اس سال سیلاب نے دو چیزیں واضح کر دیں ہیں- ایک تو ملک ھیش ٹیگ سے نھیں عملی اقدامات سے چلتے ہیں- دوسرا، اس ملک کے دفاع اور سالمیت کی گارنٹی پاکستانی عوام اور فوج کی باھم محبت اور یگانگت ہے- کسی بھی قدرتی حادثے یا دشمن کی جارحیت سے نمٹنے کے لئے یہ اللہ تعالی کی طرف سے بھیجے گئے فرشتے ھمارے لئے ھمیشہ باعث رحمت ھی ثابت ھوئے ہیں – چترال سے لیکر لسبیلہ تک، جنوبی پنجاب اور اندرون سندھ پوری قوم ھمراہ پاک فوج کے مصیبت میں گرے اپنے بھائیوں کی مدد کے لئے دن رات ایک کئے ھوئے ہیں-
ہر گزرتے دن کے ساتھ، تکنیکی ترقی اور معاشی بالادستی کی دوڑ اور رائے عامہ کو اپنے حق میں ڈھالنے کی خواہش کی وجہ سے، قوموں اور ریاستوں کو متعدد شعبوں میں نئے سیکورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔موٹیویشن
ملکی مسائل کا حل درکار ہو تو ریفرنسز یا context بہت معنی رکھتے ہیں- جب ملک بگاڑکی طرف تیزی سے بھڑھ رہا ہے تو ماضی کا حوالہ نہیں ،مستقبل کے خطرات کی طرف توجہ درکار ہے- اگر ہر طرف انتشار ہو گا، خوراک اور پانی کی کمی ہو گی، معیشت پہلے ہی بہت کمزور ہے، اب دفاعی ادارے نشانے پر ہیں تو ہمارا ملک اور ہماری اولادیں کیسے محفوظ رہ سکیں گی ان حالات میں- قوم کو انتشار نہیں ، امن کی سیاست کی ضرورت ہے-
متعدد چیلنجوں سے پیدا ہونے والے سیکورٹی ماحول کی پیچیدگیوں سے نبردآزما ھونے کے لئے ملٹری سیکورٹی کے ساتھ ساتھ، سائبر خطراات، مصنوعی ذہانت، بائیو ٹیکنالوجی، وبائی امرا ض، Bitکوائن، بلاک چین سپلائی سسٹم، فوڈ سیکیورٹی، واٹر سیکیورٹی، ماحولیات کے خطرات، انسانی اسمگلنگ اور سب سے اہم توانائی کے حصول کی جنگ کو بھی سمجھنا ھو گا-کرونا نے بڑے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے قومی ریاستوں کے ساتھ ساتھ عالمی نظام کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کیا ہے۔ کثیر جہتی خطرات سے نمٹنے کے لیے ہم آہنگ سیکیورٹی پالیسیوں کی تشکیل اقوام اور بڑی طاقتوں کے لیے ناگزیر ہو گئی ہے۔ سیلاب نے ریاست کی قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو آشکار کر دیا ھے- ھماری سیاست کی ترجیحات بھی نمایاں ھوئی ہیں- عوامی مفاد فی الحال سیاست کا مقصد بالکل نھیں ھے-

سیکورٹی کا تاریخی طور پر بنیادی تصور فوجی ذرائع سے علاقائی سالمیت کے تحفظ کے گرد گھومتا ہے۔ قومی سلامتی کے خیال کو سرد جنگ کے دور میں اہمیت حاصل ہوئی۔ دو قطبی دنیا نے فوجی ذرائع سے طاقت کے توازن کے خیالات کو جنم دیا اور اسے قومی سلامتی کے مفادات کے تحفظ کی ضمانت کے طور پر لیا گیا۔ سرد جنگ کے بعد کے دور نے متعدد چیلنجوں کو فوجی دائرہ سے باہر لایا ہے جو غیر فوجی شعبوں میں ریاست کی رٹ کو براہ راست چیلنج کرتے ہیں۔ ان چیلنجوں نے انسانی سلامتی کو ایک مشکل کام بنا دیا ہے۔ روایتی تصور صرف ریاست کا تحفظ کرتا ہے لیکن معاشرے اور افراد کو نہیں۔
اپنے قیام کے بعد سے، پاکستان کا سیکورٹی تصور روایتی فوجی سیکورٹی کے گرد گھومتا رہا ہے۔ یہ صرف پچھلی دہائی سے ہی ہے کہ پاکستان نے تصور کو وسیع کیا اور قومی سلامتی کے غیر روایتی عناصر بشمول سیاسی، اقتصادی، سماجی اور ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت کو محسوس کیا۔ دہشت گردی ایک بہت بڑے خطرے کے طور پر ابھری جس کا پاکستان نے متحرک اور انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کے ذریعے بے خوفی سے سامنا کیا۔ لیکن اس میں بھی سیاسی عزم کا فقدان تھا جو خطرے کا مقابلہ کرنے میں بڑی رکاوٹ تھی۔ اب سیلاب میں بھی یھی صورتحال نظر آرھی ھے-

اقتصادی اور فوجی سیکیورٹیز ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اقتصادی سلامتی ریاست کی عمومی سلامتی کا ایک اہم اشارہ ہے۔ بہت سے دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ، پاکستان کی کمزور اور پولرائزڈ معیشت کو گزشتہ دو دہائیوں سے ملک کو درپیش سیکیورٹی خطرات کی وجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

خطے میں ہندوستانی پالیسیاں، اس کا تسلط پسندانہ انداز اور پاکستان پر سایہ ڈالنے کی جستجو پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے مخمصے کا باعث بنی ہوئی ہے۔ جب کہ بھارت اپنے حجم اور طاقت کی وجہ سے عالمی کردار ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور تمام علاقائی مسائل کے حل میں بھرپور شرکت چاہتا ہے، پاکستان بھارت کے تسلط پسندانہ عزائم کا مقابلہ کرتا ہے اور علاقائی اور عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے آزاد اور دوطرفہ تعلقات کے لیے سبقت لے جاتا ہے۔ افغانستان کے مسائل میں بھارت کی مداخلت اور خطے کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ایران کے ساتھ تعاون اس کی سلامتی کی ضروریات کے لیے دوسرے پڑوسی ممالک کے ساتھ پاکستان کے دوطرفہ تعلقات کی اہمیت کو مزید بڑھاتا ہے۔ اپنے قیام کے بعد سے، پاکستان نے ایک روایتی فوجی سیکورٹی نقطہ نظر کو برقرار رکھا ہے جس نے اپنے مشرقی پڑوسی کے ساتھ تعلقات میں مزید فوجی طاقت کی تعمیر اور اپنی بقا کے لیے خطے میں سٹریٹجک توازن برقرار رکھنے پر توجہ مرکوز کی تھی۔ پچھلی ایک دہائی سے پاکستان کو خطرے کی ایک نئی جہت کا سامنا ہے ’’دہشت گردی‘‘ یہ ایک اندرونی خطرہ ہے جس کی بیرونی جہت کے ساتھ ساتھ بیرون ملک روابط بھی ہیں۔ بڑھتے ہوئے غیر روایتی سلامتی کے خطرے نے روایتی استحکام کے ٹھیک توازن کو برقرار رکھنے کے باوجود ایک مختلف اور جامع نقطہ نظر کا مطالبہ کیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.