نوجوان نسل اور خوشی

0 182

عتیق الرحمان

خوشی اندر سے پھوٹتی ھے- اسے باھر مت تلاش کریں- لالچ اور خوف پر قابو پائیں اور وورچوئل ورلڈ سے دور رہیں، خوشی بھاگتی ھوئی آئے گی-
چغل خوری، بہتان تراشی اور پراپیگنڈہ سے غم ملے گا- اور غم اکیلا نھی ھوتا وہ افسردگی کو ساتھ لے کر چلتا ھے-
علم کی سیر حاصل غذا ،مثبت سوچ اور جسمانی ورزش ،انسان کو مضبوط بناتی ھے جو کہ خوشی کا باعث بنتی ھے- زیادہ پریشانی ھو تو پہاڑوں کی طرف نکل جائیں- میرے ایک بہت ھی عزیز دوست ہیں، محمد خلیل، میجر جنرل کے عہدے سے ریٹائر ھوئے، جی او سی رہ چکے ہیں پاکستان آرمی ایوی ایشن کے، بہت قابل اور نفیس آدمی ہیں ، ان کو پریشانی تو کوئی نھیں لیکن وہ اکثر سے کچھ زیادہ پہاڑوں کی طرف نکل جاتے ہیں- ھمیشہ ھشاش بشاش اور خوش رھتے ہیں- جتنا وہ ھمالیہ، ھندوکش اور قراقرم کو جانتے شاید یہ پہاڑی سلسلے خود بھی اپنے آپ کو اتنانھی جانتے- پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی اے بی سی، ٹریکنگ اور سیاحت پر عبور کی حد تک معلومات ہیں- کوشش کر رھا ھوں کہ وہمعلومات اپ تک پہنچیں – ان کا تو مشغلہ ھے ، دنیا کے لئے وہ معلومات کا خزانہ ھو گا-
انٹر نیٹ اور موبائل نے نوجوان نسل سے زندگی کا مقصد چھین لیا ھے- ایک غیر پائیدار اور بے مقصد مصروفیت ان نوجوانوں کی زندگیوں کو گھیرے میں لے چکی ھے- رات کے پچھلے پہر تک ، مصنوعی تصویریں اور لغو الفاظ نوجوانوں کو اپنی طرف اس طرح مائل کرتے ہیں کہ نیند ان سے کوسوں دور بھاگتی ھے-
دو دن پہلے میری ملاقات ایک مقامی یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طالب علم سے ھوئی جو کہ ایم ایس پو لیٹیکل سائنس کے بعد اب روزگار کی تلاش میں ھے- ایک مشترکہ جاننے والے کے ھاں ملاقات ھوئی تو جان پہچان کے مرحلے جلدی طے ھو گئے- نوجوان بہت افسردہ اور گھبرایا ھوا لگ رھا تھا- استفسار کرنے پر بتایا کہ مستقل روزگار تو ھے نھیں البتہ جس خا تون سے عشق ھوا ھے وہ کراچی میں مقیم ہیں، ملاقات بھی صرف ورچئل ھے- کچھ سمجھ نھی آ رھا کیا کروں- مزید استفسار پر بتایا کہ ٹوئیٹر پر ٹرینڈ بنانے کے پچیس ھزار ملتے ہیں – یہ کام دو ماہ سے کر رھا ھوں اور گھر سے ہی کرتا ھوں- ایک کلاس فیلو نے کسی نوید سے ملایا تھا جو کہ کسی سیاسی جماعت سے وابستہ ھے- وہ ٹویٹیں کرتا ھے اور ایزی پیسے سے ھر ماہ اسے ادائیگی ھو جاتی ھے-بڑی تفصیل سے بات چیت کا نتیجہ یھی تھا کہ انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا نے اس کی زندگی ابتر کر رکھی ھے- کام اور تعلق دونوں مصنوعی ہیں-
اس طرح کی ھزاروں داستانیں ہیں – یہ نوجوانوں کی وہ قسم ھے جن کے پاس ڈگری ھے skill نھیں- پچھلے کچھ برسوں سے میرا ڈیجیٹل ورلڈ کے بڑے ھونہار بچوں سے رابطہ رھا ھے- سائبر ورلڈ میں ان کا کام اور صلاحیتیں دیکھ کر دل باغ باغ ھو جاتا ھے- یھی لوگ پاکستان کا مستقبل ہیں- پاکستان کو تیزی سے آگے نکلتی ڈیجیٹل اور سائبر ورلڈ سے اپنا حصہ وصول کرنے کیلئے ان نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاھیے تاکہ وہ سوشل میڈیا ٹیموں کا حصہ نہ بن سکیں اور منفی رویوں سے دور رھیں- سیاسی جماعتوں سے بھی ھاتھ جوڑ کر اپیل ھے سیاست کریں پروپیگنڈا روبوٹ نہ بنائیں-
نوجوانوں سے استدعا ھے کہ جو عشق موبائل کے ذریعے آپ تک پہنچا ھے ظاھر ھے virtual ھی ھو گا- یہ کیسے ھو سکتا ھے کہ virtual world میں حقیقی چیز نمودار ھو-
حقیقی دنیا کو اپنا ھمنوا بنائیں-

Leave A Reply

Your email address will not be published.