بے جا تنقید!

0 433


پاک فوج پر دشنام طرازی اور تنقید کے تیرونشتر چلانا ہماری سیاسی پارٹیوں اور ان کے رہنمائوں کا محبوب مشغلہ بنتا جارہا ہے۔ ان پارٹیوں کے سوشل میڈیا سیل تو اس حوالے سے آسمان سر پر اٹھائے ہوئے ہیں۔ جھوٹ، فریب اور بدتمیزی کا ایک ایسا طوفان برپا ہے کہ ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ ملکی سلامتی کے اداروں کے حوالے سے ایسی منفی روش نے محب وطن شہریوں اور سنجیدہ حلقوں کو سخت تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ بلاشبہ ایسی صورتحال نے ملکی سلامتی کو شدید خطرات سے دوشار کردیا ہے ۔ ویسے تو ہم کسی خطرے کو ناپ تول کر اس کی سنگینی کا اندازہ نہیں کرسکتے، لیکن موجودہ منظر نامہ اس قدر ہولناک ہے کہ ہم اسے ایٹمی خطرے جیسا قرار دے سکتے ہیں۔ جس کے مضمرات اور خوفناک نتائج کی پروا کیے بغیرہماری سیاسی قیادت تسلسل سے ان حربوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کررہی ہے۔
ستم ظریفی دیکھیے کہ ایسی روش اور طرز عمل اب ایک معمول بنتا جارہا ہے۔ میرے خیال سے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ حکومت اس مسئلے کو ادارے کا مسئلہ جانتے ہوئے اس کے خلاف کوئی ایکشن لینے سے گریزاں ہے یا اس سے موثر طور پر نمٹنے سے پہلو تہی کرتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ وہ تو اس تذبذب میں بھی مبتلا ہے کہ آیا فوج ایسے حربوں سے نمٹنے کے اپنے نظام کی موجودگی اوراس ضمن میں اپنی مرضی کے بغیر حکومت کو کوئی قدم اٹھانے کی اجازت دے گی یا نہیں۔ بہرحال اپنی فوج اور اس کے کمانڈروں کو بدنام کرنے کی اجازت کسی صورت میں نہیں دی جاسکتی۔
پاک فوج کے وقار کو مجروح کرنے کی ایک تاریخ ہے اور ایسے تمام ہتھکنڈے ایک بڑی ناپاک سازش کا حصہ ہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ اس سازش کے تانے بانے کہاں بنے جاتے ہیں اور اس کے پس پردہ کون سی قوتیں کارفرما ہیں۔ حالیہ فوج مخالف مہم چند سال پہلے تیار کی گئی اور تب سے لے کر آج تک مختلف کردار اسے عملی جامہ پہناتے چلے آرہے ہیں۔ چند سیاسی کردار تو اس حد تک چلے گئے کہ انہوں نے اپنی فوج پر کیچڑ اچھالنے کے لیے غیرملکی فرموں کی خدمات بھی خریدیں۔ بلاشبہ ان نزدیک فوج مخالف بیانیہ موضوعات، سازشی نظریات اور غلط فہمیوں کے اعتبار سے کافی وسعت رکھتا ہے۔
دوسری طرف ادارے کے لیے نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن کی سی صورتحال ہے کیونکہ اس کا نظام اور متعین شدہ حدود اسے ایک سیاسی جماعت کی طرح آپے سے باہر ہونے نہیں دیتے۔ ویسے بھی ہماری فوج ڈسپلن اور پیشہ ورانہ امور کے لحاظ سے دنیا میں اپنی ایک پہچان رکھتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں جب تنقید کا کوئی جواز نہیں تو چند مخصوص افراد ماضی کے واقعات کو کھنگال کر اپنی یہ ہوس پوری کررہے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ ماضی کو جھٹلایا نہیں جاسکتا لیکن کسی بھی معاملے کا ذکر کرنے سے قبل اس کی وجوہات یا پس منظرکو حقائق اور درست حوالوں کے تناظر میں پیش کیا جانا ضروری ہے۔ فوج ریاست کو نقصان پہنچانے والے دہشت گردوں کے خلاف لڑائی کرے یا پھر ملکی سیاست کا الو سیدھا کرے۔ ایسی صورتحال کہ جس میں ایک طرف سیاسی درجہ حرارت اپنے عروج پر ہے اوردوسری طرف معاشرہ سیاسی تقسیم کا شکار ہو، فوج کے اس بیانیے پر کون کان دھرے گا؟
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سیاست میں فوج کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ سیاستدانوں کی طرف سے جان بوجھ کر فوج کو سیاست میں دھکیلا جاتا رہا ہے۔ بہت سے مواقع پر تو ان کے تعاون اور مشاورت سے ایسا ہوا۔ اس کے باوجود وہ اپنے سیاسی مقاصد کے لیے فوج پر تنقید کا بہانہ ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ سیاستدانوں کی ہمیشہ یہ روش رہی ہے کہ وہ اپنے مقاصد کے لیے حالات کو ایک خاص نہج پر لے جاتے ہیں اور پھر فوج کو سیاسی امور میں مداخلت کے لیے اکساتے ہیں۔ پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں سیاست کا دکان ایسے ہی ہتھکنڈوں سے چلتی ہے۔ تاہم آج کے دور میں سوشل میڈیا اس صورتحال کو مزید بگاڑنے میں مہمیز کا کردار ادا کررہا ہے جس کا نتیجہ صرف افراتفری کی صورت میں برآمد ہوتا ہے اور تمام تنقیدی توپوں کا رخ فوج کی جانب مڑ جاتا ہے۔
چند سال قبل ایسی ہی ایک زہریلی مہم شروع ہوئی جس کے ذریعے پہلے پہل بین السطور فوج کو نشانہ بنایا جاتا رہا لیکن اب یہ جارحانہ شکل اختیار کرچکی ہے حتی کہ براہ راست آرمی چیف کا نام لے کر ان پر کیچڑ اچھالا جارہا ہے۔ اس منفی ہتھکنڈے کے لیے سوشل میڈیا کا خوب استعمال کیا جارہا ہے کیونکہ ابلاغ کی یہی صورت اداروں کے خلاف زہراگلنے والے چہروں کو ڈھانپے رکھتی ہے۔ اس زہریلی مہم کا ہدف فوج ہی نہیں بلکہ عدالتیں اور ججز بھی ہیں۔ ایسے تمام حربوں کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ یہ کہ ملک میں افراتفری اور ابتری کی فضا پیدا کردی جائے۔ جہاں تک سیاستدانوں کا تعلق ہے تو وہ عام طور اس طرح کی تنقید کے عادی ہوتے ہیں لیکن حالیہ دنوں میں ان کے خلاف بھی جو شرمناک مہم چلائی گئی وہ قابل مذمت ہے۔ اس خوفناک مہم سے صحافی بھی محفوظ نہیں رہے۔ خاص طور پر خواتین صحافیوں کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ انہوں نے اپنے پروگراموں میں ایک خاص پارٹی اور اس کے لیڈروں سے کڑے سوالات پوچھ لیے تھے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بہت سے صحافی اب اپنی سیاسی وابستگی اور پسند و نا پسند کو بھی پوشیدہ نہیں رکھ پائے۔

ایک مچھلی منڈی کی طرح سوشل میڈیا ٹرولز کی بولی لگتی ہے۔ بہت سے عناصر صرف پیسے کی خاطر کسی کی بھی پگڑی اچھال دیتے ہیں۔ ان کی حالت ان خودکش بمباروں جیسی ہے جو اپنے ہینڈلروں کے اشارے پر کسی پر بھی پھٹ جانے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ سوشل میڈیا ٹرول ایک خطرناک ہتھیارکی صورت اختیار کرچکا ہے۔ جس طرح دہشت گرد مہلک ہتھیاروں سے کسی بھی معاشرے پر دہشت طاری کردیتے ہیں، ٹرولز لوگوں کے ذہنوں کو آلودہ بنا دیتی ہیں۔
مثبت تنقید ہمیشہ دلائل اور حقائق پر مبنی ہوتی ہے لیکن جھوٹے اور خودساختہ کہانیوں کا مقصد صرف اور صرف اداروں اور اہم شخصیات کو بدنام کرنا ہے۔ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں چند مخصوص طبقے، صحافی، انسانی حقوق کے علمبردار اور سیاسی رہنما فوج پر تنقید کے تیر و نشتر چلاتے رہتے ہیں۔ 2021ء میں نواز شریف نے جلسے جلوسوں میں فوج اور اس کی قیادت کونشانہ بنایا۔ اب چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے فوج کو آڑے ہاتھوں لیا ہوا ہے۔ ازلی دشمن بھارت اور دوسرے پاکستان مخالف عناصر بھی اس آڑ میں اپنے مقاصد پورے کررہے ہیں۔ انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار تو عرصہ دراز سے فوج پر کیچڑ اچھال رہے ہیں۔ اسی طرح 2018ء میں پشتون تحفظ موومنٹ [پی ٹی ایم] نے فوج مخالف بیانیے اور نعروں کے ساتھ ایک پراسرار طریقے سے سیاست کے میدان میں قدم رکھا۔
چند صحافی اور کچھ بین الاقوامی این جی اوز تو گمشدہ افراد کے معاملے میں فوج کو گھسیٹنے کے اپنے ایجنڈے پر تسلسل سے عملدرآمد کررہی ہیں۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری تو اس ضمن میں سب پر بازی لے گئے۔ انہوں نے مسلسل عدالتی کارروائیوں اور ریمارکس کے ذریعے فوج کو اس معاملے کا ذمہ دار قراردیا۔ بلوچستان کی سیاسی قیادت نے بھی اس معاملے کو اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا۔ ضمننا اس بات کا بھی ذکر کرتا چلوں کہ حیران کن طور پر صوبہ بلوچستان میں پسماندگی کی ذمہ داری بھی فوج میں کھاتے میں ڈال دی جاتی ہے۔
ایم کیو ایم دہائیوں سے کراچی کے سیاسی اورانتظامی امور میں شریک ہے تاہم وہ بھی وہاں امن و امان کی بحالی کے لیے رینجرز کی تعیناتی پر فوج کو ہدف تنقید بناتی ہے۔ اسی طرح جی یو آئی [ف] فاٹا میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن پر فوج کے خلاف ایسا ہی رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ گزشتہ چند سال میں عمران خان اسلام آباد میں آٹھ چھوٹے بڑے دھرنے دے چکے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیموں کے دہانے بھی فوج اور اس کی قیادت کے خلاف کھلے ہیں اور صحافی ان کی لگائی آگ پر تیل ڈال رہے ہیں۔ گزشتہ چند ماہ سے تو ایک اورعنصرمنظرعام پردیکھا جارہا ہے اور وہ ہے ایکس سروس مین سوسائٹی جو فوجی قیادت سے مطالبہ کررہی ہے کہ وہ پی ڈی ایم حکومت کو ہٹا کر عمران خان کو واپس اقتدار میں لائے۔ ان کی یہ خواہش اور مطالبہ کس قدر غیرمنطقی اور مضحکہ خیز ہے کہ اس پر صرف ہنسا ہی جاسکتا ہے۔
پی ایم ایل این فوج سے اس لیے ناراض ہے کہ 2018ء میں پی ٹی آئی نے انتخاب جیتا اب عمران خان منہ بنائے بیٹھے ہیں کہ انہیں اپوزیشن نے اقتدار سے باہر کردیا۔
آج کل میڈیا اور سوشل میڈیا کا تعلق انسانی سوچ کے ساتھ گہرائی سے جڑا ہے۔ میڈیا جس طرح بھی معاملے کو کسی کے ذہن میں ڈالتا ہے، وہ اسے اسی طرح ہی خیال کرتا ہے۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو اس وقت میڈیا کا ایجنڈا فوج مخالف ہے جو لوگوں کے ذہنوں کو آلودہ کرکے اسے عوامی بحث کا موضوع بنا چکا ہے۔ یہ صورتحال ملکی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ فوج نہ سیاسی جماعت ہے اور نہ اس جیسا تحمل رکھتی ہے۔ وہ مشرقی سرحدوں، لائن آف کنٹرول اور دوسری سرحدوں پر ملک کا دفاع کر رہی ہے، وہ پولیو کے خاتمے، کورونا پر قابو پانے وغیرہ میں سول انتظامیہ کی معاونت کررہی ہے اور اس کے ساتھ ہی اس کی قیادت کی جانب سے بارہا جہوری اصولوں کی پاسداری کا عہد اور یقین دہانی کروائی جاتی رہی ہے۔
اس تناظر میں سیاسی جماعتوں کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے فوج کو تنقید کا نشانہ بنانے اور اپنے سیاسی مقاصد کے لیے اس پر دبائو ڈالنے کی پالیسی ترک کردینی چاہیے۔ سیاسی قیادت میں اقتدار میں آنے کے لیے جھوٹ اور فریب پر مبنی شارٹ کٹس کا سہارا لینے کے بجائے سیاسی عمل کا سامنا کرنے کی جرات ہونی چاہیے۔ الحمدللہ، پاکستان قائم ہے، قائم رہے گا۔ پاک فوج اس کی سلامتی، آزادی اور تحفظ کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھے ہوئے ہے۔ آئیے، وطن کی سلامتی اور تحفظ کے لیے ہر سیاسی، ذاتی مفاد سے بالاتر رہتے ہوئے مل جل کر رہیں اور پاکستان کو مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ بنائیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.