پاک فوج اور آئین و قانون کی پاسداری

0 278

(تحریر :صدیق ساجد)

گزشتہ دنوں جب افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل افتخار بابر ایک پریس کانفرنس میں کہہ رہے تھے کہ پاکستان میں اب کبھی مارشل لاءنہیں لگے گا اور نہ ہی فوج بحیثیت ادارہ سیاست میں ملوث ہو گی ۔ تو میرے سمیت بہت سے صحافی سوچ رہے تھے کہ کیا اس پر عملدرآمد بھی ہو گا یا یہ صرف ایک بیان ہی ہے مگر دوستوں کی اکثریت کی رائے تھی کہ آپ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی گزشتہ پانچ سال دیکھیں ان کی تقاریر کا جائزہ لیں تو آج ڈی جی آئی ایس پی آر کی یہ بات دل کو لگتی ہے کہ آرمی چیف فوج کے اندر بھی اس بات کو یقینی بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ افواج پاکستان کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں اور فوج جمہوریت کی حمایت جاری رکھے گی ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کے متعلق مواقع پر خطاب بھی اس بات کے گواہ ہیں جس میں وہ بار بار ایک پائیدار اور مستحکم جمہوری نظام کی بات کرتے رہے جس کا بنیادی مقصد آئین اور قانون کے مطابق پاکستان کے عوام کی فلاح و بہبود ہو اور اس کی زندہ مثال ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں جب عمران خان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آئی تو فوج بحیثیت ادارہ اس سے قطعی طور پر لاتعلق رہی ۔ آئی ایس آئی پر بھی بڑے الزامات ماضی میں لگتے رہے ان کی تفصیل میں جائے بغیر ہم نے یہ بھی دیکھا کہ قومی سلامتی کا یہ ادارہ مکمل طور پر اب غیر سیاسی ہے اور اس میں کسی قسم کا کوئی سیاسی سیل بھی اب موجود نہیں ۔ آئین ، قانون اور پارلیمانی انداز میں تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی اس پر ووٹنگ ہوئی اور اقتدار شہباز شریف کی قیادت میں بننے والی اتحادی حکومت کو منتقل کر دیا گیا لیکن افسوس کہ عوام اس سارے معاملے میں صدر عارف علوی کے کردار کو دیکھیں کہ انہوں نے پارلیمنٹ کی منتخب کردہ وزیر اعظم شہباز شریف سے حلف لینے سے انکار کر دیا کیونکہ ان کی پارٹی تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے احکامات ان تک پہنچائے گئے کہ وہ شہباز شریف سے حلف نہ لیں کیونکہ ان کی حکومت امپورٹڈ حکومت ہے اور سازش کے تحت وجود میں آئی ہے تو پھر آپ دیکھیں کہ جمہوری نظام میں روڑے اٹکانے والا کون تھا ؟ کیا فوج یا کوئی ادارہ اس معاملے میں ملوث ہوا بالکل نہیں ۔ نظام پھر بھی چلتا رہا اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ان کے عہدے کا حلف لیا کیونکہ آئین بڑا واضح ہے کہ اگر صدر حلف لینے یا اپنے فرائض دہی کے لئے موجود نہ ہو تو وہ اپنا نمائندہ مقرر کر سکتا ہے جب حکومت تبدیل ہورہی تھی تو بہت سی افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ مارشل لاءلگنے والا ہے وزیر اعظم کو گرفتار کر لیا جائے گا ۔ فوجی قیادت ایوان وزیر اعظم پہنچ گئی ۔ ٹرپل ون بریگیڈ کو حرکت میں لایا جا چکا مگر حقیقت اس کے برعکس تھی اس وقت ہم پارلیمنٹ میں موجود تھے اور تمام صورت حال سے آگاہی تھی اگر عدالت رات بارہ بجے کھلی تو اپنے فیصلے پر عملدرآمد کروانے کے لئے کھلی کیا کسی نے دیکھا کہ کوئی فوجی آفسر کیا کور کمانڈر یا خود آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اس ساری صورت حال میں سامنے آئے ہوں اقتدار منتقل ہوا اور پرامن انداز میں ہوا ۔ افواج پاکستان اس ساری صورت حال میں مکمل طور پر غیر جانبدار رہی اور جنرل باجوہ نے مکمل طور پر قانون اور آئین کی پاسداری کی وگرنہ ماضی میں ہم نے دیکھا کہ سیاستدانوں کی لڑائیوں اور ایک دوسرے پر کرپشن کے الزام لگتے تھے تو یہ خود آرمی چیف کے پاس پہنچ جاتے تھے ایک دوسرے کے خلاف مدد مانگی جاتی تھی مگر اب زمانہ بدلا اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے ان پانچ سالوں کے دوران فوج کے اندر جو بڑی اصلاحات کیں اس میں ایک یہ بھی تھا کہ فوج کا آئینی اور قانونی کردار کیا ہونا چاہئے ؟ فوج کا اصل میں حلف کیا کہتا ہے ؟ اور جنرل باجوہ نے اس حلف کی پاسداری نہ صرف خود کی بلکہ بحیثیت کماندڑ انچیف اس پر ادارے میں بھی عملدرآمد یقینی بنایا ۔

                افسوس اس بات کا ہے کہ سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے یوتھیے جس قسم کی الزام تراشی افواج پاکستان کی قیادت اور ریاست کے قومی ادارے کے خلاف کر رہے ہیں اس پر یہ لوگ کسی اور کا نہیں اپنا نقصان خود کر رہے ہیں وزیر دفاع خواجہ آصف نے برمحل بات کہی کہ فیصلے آپ کے حق میں ہوں تو عدلیہ بھی ٹھیک ، اسٹیبلشمنٹ بھی ٹھیک اور فوج اور اس کی قیادت بھی ٹھیک اور اگر فیصلے ان کے خلاف ہوں تو پھر فوج ، عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ پر چڑھ دوڑتے ہیں گالم گلوچ اور بدزبانی کی جاتی ہے ۔ یہ روش تبدیل کرنا ہو گی اور خود تحریک انصاف کی قیادت عمران خان کو بحیثیت چیئرمین یہ سلسلہ روکنا ہو گا وہ جتنا مرضی کہیں کہ فوج پر تنقید کرنے والے ان کے لوگ نہیں ہیں حقیقت اس کے برعکس ہے کیونکہ یہی عمران خان سوشل میڈیا پر حکومت کی تبدیلی کے بعد اداروں پر تنقید کرنے والوں کو اپنا جنگجو قرار دے رہے ہیں ان کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں اداروں کی کمزوری ملک کی کمزوری کے مترادف ہو گا ۔ ان کو ہوش کے ناخن لینے چاہئے فوج ہے تو یہ ملک ہے اور ایک مضبوط فوج پاکستان کے ناقابل تسخیر ، دفاع کی ضامن ہے ورنہ ہم لیبیا ، شام ، عراق کو مت بھولیں اس لئے اگر فوجی قیادت نے اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیا ہے تو وہ جمہوریت کے ساتھ ہیں کوئی مارشل لاء نہیں آئے گا تو پھر عمران خان بھی جمہوری انداز میں ہونے والی تبدیلیوں کو تسلیم کریں اور سازش ، سازش کا ڈرامہ بھی بند کیا جائے کیونکہ یہ ڈرامہ قومی سلامتی کے کمیٹی میں مکمل طور پر بے نقاب ہو چکا ہے ۔

*******

Leave A Reply

Your email address will not be published.