باجوہ ڈاکٹرائن سے دشمن خوفزدہ کیوں؟

0 202

تحریر: صدیق ساجد

جنرل قمر جاوید باجوہ نے جس وقت پاک فوج کے سپہ سالار کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں تو اس وقت پاکستان کو بہت سے اندرونی و بیرونی چیلنجز درپیش تھے اور ان چیلنجز سے نبردآزما ہونے کے لئے دلیرانہ اور جرات مندانہ فیصلوں کی ضرورت تھی،فوج میں مختلف اہم عہدوں پر فائز رہنے والے جنر ل قمر جاوید باجوہ کا سب سے بڑا ہدف دشمن کے کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کو ناکام بنانا تھا تو انہوں نے اپنے تجربے اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو استعمال میں لاتے ہوئے اپنا ایک نظریہ دیا جسے دنیا اور خاص طور پر دشمن آج بھی باجوہ ڈاکٹرائن کے نام سے جانتا ہے کیونکہ باجوہ ڈاکٹرائن پر عملدرآمد ہونے کے بعد دشمن کوجرات نہیں ہوئی کہ وہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ سکے ،ہر وقت سازش بچانے والا بھارت فروری 2019 میں جب پاکستانی سرحدوں کے اندر آیا تو اس کا منہ توڑ جواب دیا گیا جس کو بھارت آج تک نہیں بھول سکا۔جنرل باجوہ ہی تھے جنہوں نے آپریشن ردوالفسادکو کامیاب بنانے کی حکمت عملی تشکیل دی ،سول ملٹری ڈپلومیسی کے فروغ میں اپنا قائدانہ کردار ادا کیا جبکہ مغربی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لئے باڑ لگانے جیسے اقدامات بھی شروع کئے ۔

ملکی سیاست کا المیہ ہے کہ پاک فوج اور پاکستان کو ذاتی سیاسی ایجنڈے کی زد میں لانے اور بے جا تنقید کا نشانہ بنانے کی روش بڑھتی جا رہی ہے۔ لیکن اس سب سے بالاتر ہو کر پاک فوج کی جرات مند اور وڑنری لیڈر شپ نے پاکستان کے امن و استحکام اور ترقی کے لیے دن رات ایک کر رکھا ہے۔پاکستان کو تنہا کرنے کی دشمن کی سازشوں اور معاشی بدحالی کے سامنے ملٹری لیڈر شپ نے قائدانہ کردار ادا کیا۔ فوجی ڈپلومیسی نے کام دکھایا اور سعودی عرب و یو اے ای نے پاکستان کی مدد کی،اس میں بھی جنرل قمر جاوید باجوہ کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائیگا، یہ پہلو انتہائی اہم ہے کہ پاک فوج کی قیادت کی کوششوں سے نہ صرف دیرینہ ریکوڈک تنازعہ حل ہوا ہے بلکہ ایسا معاہدہ ہوا ہے جو کمپنی کے ساتھ ففٹی ففٹی پارٹنرشپ کے ساتھ ہر اعتبار سے پاکستان کے مفادات کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ملازمتوں کے آٹھ ہزار براہ راست اور بارہ ہزار ان ڈائریکٹ مواقع پیدا ہوں گے۔ پچھلی متنازعہ ڈیل کے مقابلے میں اب پاکستان کو سالانہ 255 ملین ڈالر اضافی ریونیو حاصل ہو گا۔ جب کہ پینتیس سالوں میں پروڈکشن منافع سے مجموعی طور پر 65 ارب ڈالر حاصل ہوں گے۔ اس میں خاص طور پر بلوچستان کا حصہ 41 فیصد طے کیا گیا ہے جو صوبے کی ترقی کی یقینی ضمانت ہے۔ مقامی آبادی کی فلاح و بہبود پر ایک سو ساٹھ ارب روپے الگ سے خرچ کیئے جائیں گے۔ جب کہ ریکوڈک ڈیل کے نتیجے میں سی پیک کو ملنے والا فائدہ اضافی پہلو ہو گا۔

بات ہو سرحدی سیکیورٹی کی تو پاکستان جتنا آج محفوظ ہے، پہلے کبھی نہ تھا۔ خاص کر افغانستان سے دہشت گردوں کی آزادانہ نقل و حرکت دہشت گردی کی جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے میں بڑی رکاوٹ تھی۔ لیکن پاکستان آرمی نے تقریبا چھبیس سو کلومیٹر کے مغربی بارڈر پر باڑ لگا کر ہمیشہ کے لیے محفوظ بنا دیا گیا۔ اس سرحدی انتظام کو فول پروف بنانے کے لیے قلعے اور پختہ چوکیاں تعمیر کی گئیں۔ اس بڑی کامیابی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں اگر بروقت مغربی سرحد محفوظ نہ بنائی گئی ہوتی تو امریکی انخلاءکے بعد کی صورتحال میں غیر مستحکم افغانستان سے آج پاکستان کے طول و عرض میں دہشت گردی کی نئی جنگ کا آغاز ہو چکا ہوتا۔ان تمام تر کامیابیوں کا سہرا بھی جنرل باجوہ کے سر جاتا ہے جنہوں نے جو کہا اس پر عمل کردکھایا۔

انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا معاملہ ہو، کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی ہو یا ملک بھر میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے ہر رنگ و نسل کے باقی ماندہ دہشت گردوں کا پیچھا اور خاتمہ۔ ان تمام اقدامات سے ہر آنے والا دن ہمیں روشن پاکستان کی منزل کے قریب لا رہا ہے۔

            پانچ سال پہلے جب آپریشن رد الفساد کا آغاز ہوا تو جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ ہر پاکستانی آپریشن رد الفساد کا سپاہی ہے۔ آئیں مل کر اپنے پاکستان کو محفوظ اور مضبوط بنائیں اور پھر انہوں نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا اور ان پانچ سالوں میں عوام اور سیکیورٹی فورسز نے پاکستان کی تصویر میں امن کے رنگ بھر دیئے ہیں۔ملک کے مختلف حصوں میں آرمی چیف کی ہدایت کی روشنی میں محدود وسائل کے باوجود سماجی و معاشی ترقی کے منصوبے شروع کئے گئے اور کوئی بھی ان منصوبوں جا کر وزیر ستان اور دیگر قبائلی علاقو ںمیں دیکھ سکتا ہے پھر وہاں پر ریاست کی رٹ بحال کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں تھا مگر جنرل باجوہ اس میں بھی ہر طرح سے کامیاب ہوئے اگر سکیورٹی فورسز کی صلاحیتوں اور استعدار کار بڑھانے کی بات کی جائے تو اس میں بھی جنرل باجوہ بازی لے گئے ،2017سے اب تکLEAsکی Capacity Enhancementکے تحتFCکے67نئے ونگز کا قیام عمل میں لایا گیا ،آرمی چیف کی ہدایت پر دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے سکیورٹی فورسز نے ملک بھر میں 50ہزار سے زائد پولیس کے جوانوں کو تربیت فراہم کی ،22ہزار کے قریب لیویز اور خاصہ دار اہلکاروں کو ٹریننگ دی گئی ،بارڈر مینجمنٹ کے تحت پاک -افغان سرحد پر باڑ لگانے کا کام95% مکمل ہو چکا جبکہ پاک-ایران بارڈر پر78%سے زائد باڑ لگائی جا چکی ہے اور ان کاموں کی نگرانی بھی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ خود کررہے ہیں ۔

ان تمام تر اقدامات کا سہرا اگر افواج پاکستان کی قیادت کو نہیں جاتا تو پھر کس کو جاتا ہے اور یہ وہی فوج ہے جس کی پیشہ وارانہ اور آپریشنل صلاحیتوں کی معترف پوری دنیا ہے اس لئے کہا جاتا ہے کہ فوج کا ہر سپاہی ہر فیصلے کے حوالے سے اپنے کمانڈر انچیف کی طرف دیکھتا ہے اور جنرل باجوہ جیسے سپہ سالار نے کبھی بھی اپنے سپاہی کا سر جھکنے نہیں دیا بلکہ اسے ہمیشہ فخر سے بلند رکھا۔

یہ وہی فوج ہے جس کی پیشہ ورانہ اور آپریشنل صلاحیتوں کی معترف پوری دنیا ہے اس لیے کہا جاتا ہے کہ فوج کا ہر سپاہی ہر فیصلے کے حوالے سے اپنے کمانڈر انچیف کی طرف دیکھتا ہے اور جنرل باجوہ جیسے سپہ سالار نے کبھی بھی اپنے سپاہی کا سر جھکنے نہیں دیا بلکہ اسے ہمیشہ فخر سے بلند رکھا۔۔۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.