آب گم،سیاسی بساط اور فوج کا کردار

0 202

تحریر: وثیق الرحمان

مشتاق احمد یوسفی )مرحوم(سنجیدہ موضوعات میں بھی مزاح کا پہلو تلاش کرنے میں کمال مہارت رکھتے تھےاپنی معرکہ آرا کتاب آب گم کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں۔لیڈر خود غرض،علماء مصلحت بین،عوام خوف زدہ اور راضی برضائے حاکم،دانش ور خوشامدی اور ادارے کھو کھلے ہو جائیں تو جمہوریت آہستہ آہستہ آمریت کو راہ دیتی چلی جاتی ہے ۔پھر کوئی طالع آزما آ مر ملک کو غضب ناک نگاہوں سے دیکھنے لگتا ہے۔تیسری دنیا کے کسی بھی ملک کے حالات پر نظر ڈالیے ۔ڈکٹیٹر خود نہیں آتا لایا اور بلایا جاتا ہے اور جب آ جاتا ہے تو قیامت اس کے ہم رکاب آتی ہے۔پھر وہ روایتی اونٹ کی طرح بدوؤں کو خیمے سے نکال باہر کرتا ہے۔باہر نکالےجانے کے بعد کھسیانے بدو ایک دوسرے کا منہ نوچنے لگتے ہیں۔۔پھر ایک نایاب بلکہ عنقا   شے کی جستجو میں نکل کھڑے ہوتے ہیں۔مطلب یہ کہ اپنے سے زیادہ غبی اور تابع دار اونٹ تلاش کر کے اسے دعوت دینے کے منصوبے بنانے لگتے ہیں تا کہ اس کی پیٹھ پر بیٹھ کر اپنے خیمہ میں رہ سکیں اور آقائے سابق آلا نعام یعنی پچھلے اونٹ پر تبرا بھیج سکیں۔

ماضی کے تلخ تجربات کو دیکھتے ہوئے افواج پاکستان نے بہت واضح اور ٹھوس پالیسی اپنائی کہ جمہوریت کا راستہ روکنے کی بجائے اس کو ہر حال میں چلنے دیا جائے چاہے سیاسی حالات کتنے ہیں سنگین کیوں نہ ہو جائیں اور کوشش کی جائے کہ آئینی حدود میں رہتے ہوئے جمہوریت اپنا راستہ خود بنائے۔ سابقہ  پندرہ سالہ جمہوری تسلسل اس بات کا واضح ثبوت ہے۔اس غیر جانبدار پالیسی سے بھی سیاسی جماعتوں کے قائدین  کوئی خوش نہیں۔فوج کی غیر جانبدار پالیسی بھی ان کے مفاد میں نہیں ۔ ہر سیاسی پارٹی کا قائد یہ چاہتا ہے فوج اس حد تک تو ملوث ہو کہ اس کو اقتدار کی کرسی پر براجمان کرانے کے ہر روکاوٹ دور کر دے اور جب وہ مسند نشیں ہو تو فوجی قیادت اگلے حکم کی تکمیل کے لیے ہاتھ باندھ کر مؤدب کھڑی رہے۔ تمام سیاسی قیادت ملک میں تو جمہوریت کی خواہاں ہیں لیکن اپنی پارٹی کی قیادت میں آمرانہ کردار کا عملی نمونہ ہیں۔ نہ ان کو دیوالیہ ہوتی معیشت کی فکر نہ بیرونی دشمن کی یلغار کو روکنے کی منصوبہ بندی۔۔۔صرف یہی فکر کھائے جا رہی ہے کہ مجھے کیوں نکالا۔۔۔اور مجھے یوں نکالا۔۔

دہشت گردی کا بھوت گزشتہ دو دہائیوں سے مسلط ہے اور افواج پاکستان پوری پیشہ ورانہ مہارت اور ذمہ داری سے نبرد آزما ہے

۔شہداء کی لاشیں اٹھانے کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔جب جمہوری چیمئپین قومی اسمبلی میں اقتدار کی بندر بانٹ کے لیے ایک دوسرے پر آئین کی کاپیاں پھینک کر جمہوری اقدار کا مزاق اڑا رہے تھے۔عین اس وقت میران شاہ میں فوجی جوان اپنے سینے پر گولیاں کھا کر مادر وطن کے تقدس پر اپنے خون سے ایک مقدس عہد تحریر کر رہے تھے۔اے وطن سے وطن ہم کو تیری قسم تیری راہوں میں جاں تک لٹا جائیں گے۔

تمام تر قربانیوں کا یہ صلہ ہے کہ صرف چند ہزار جعلی اکاونٹس بنا ئے جائیں اور فوجی قیادت کو  ہیش ٹیگ بنا کر للکارا جائے۔باجوہ کھل کے سامنے آ۔۔۔۔باجوہ کھل کے سامنے تو آ گیا ہے ۔۔۔بے جا تنقید کی مسلسل تکرار بھی اس کو اپنے عزم سے نہ ہٹا

سکی۔اپنے فرض کی تکمیل کے لیے اور افواج پاکستان کی عظمت کے تحفظ کے لیے صبر و تحمل کی نئی مثال قائم کرنے والا سپہ سالار آج بھی اس عہد پر قائم ہے کہ اپنی مدت پوری ہوتے ہی گھر چلا جائے گا۔جرنل باجوہ  کی مدت ملازمت میں ایک سے زیادہ مواقع آئے کہ جب مارشل لا کے نفاذ کے لیے جواز بھی موجود رہے۔لیکن دنیا نے دیکھا آسمان نے دیکھا کہ افواج پاکستان جمہوری تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹی۔آج ضروت اس عزم کی ہے کہ اپنی بہادر افواج کی عزت و ناموس کے لیے وطن کا بچہ بچہ ہمیشہ کی طرح پر عزم رہے تاکہ دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا جائے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.