ترجیحات؛ ترقی کے لئے صیح سیکٹرز پر توجہ دیں 

پاکستان میں اگر توجہ دی جائے تو ترقی کے چار ماخذ ،  ہنر مند افراد، مائننگ کی صلاحیت ، سیاحت، آئی ٹی سروسز پر توجہ دے کر فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے

دنیا کی ساری طاقت، پانی، تیل، سونا، ہیرے، کاپر، معدنیات، جڑی بوٹیاں، زراعت ، خام لوہا، کرومائیٹ، نمک، جپسم، کوئلہ اور بے شمار خزانے  زمین کے اندر دفن ہیں- قدرت نے زمین کو اتنی طاقت بخشی ہے کہ یہ اربوں انسانوں کی زندگی کی تمام ضروریات کا منبع بھی ہے اور انسان کے پیدا کئے ہوئے کچرے اور خود انسانوں کی آخری آماجگاہ بھی- قدرت کی کارسازی دیکھیں، جو چیز بھی زمین میں دفن ہوتی ہے وہ decompose ہو کر زمین کے اوپر بسنے والوں کے لئے فائدہ مند بن جاتی ہے- شاید اپنے وطن، اپنے شہر، اپنے گاؤں سے محبت کی یہ بھی ایک وجہ ہے- 

دنیا پر راج کرنے کیلئے صرف mining کی صلاحیت حاصل کرنے اور زمین سے متعلقہ سائنس کو ترقی دینے کی ضرورت ہے- 

پاکستان میں سیاحت کے شعبے میں بے انتہاء صلاحیت ہے- آئی ٹی سروسز میں نوجوانوں اور گھریلو پڑھی لکھی خواتین انقلاب برپا کر سکتی ہیں- حکومت نے اور HEC نے صرف تربیت پروگراموں کا آغاز کرنا ہے- 

دیہاتوں اور قصبوں میں کچن گارڈن اور دودھ کے لئے بکری، بھینس مہنگائی کے خلاف بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں- شہروں میں چھتوں پر کچن گارڈن بنائے جا سکتے ہیں –

ہمارا سارا انحصار قرضوں پر ہے-

پتا چلا ہے کہ پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ دو ہزار چھ سو پچپن ارب تک پہنچ گیا ہے- ڈسکوز اوور بلنگ کر کے کوشش تو کر رہی ہیں کہ قرضہ کم ہو جائے لیکن بات بن نہیں رہی- اب تو بیرونی قرضوں کا حجم بھی 130 ڈالر ہو چکا ہے-  

پریشانی یہ ہے کہ سوچے سمجھے بغیر یہ قرضے دیئے کون جا رہا ہے- غالب امکان یہی ہے کہ اُن کو پتا ہے کہ یہ قسط کسی نہ کسی طرح عوام سے لیکر دے ہی دیں گے- عوام سے پیسے چھیننے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ایک تو یہ قانون کے دائرے میں ہے اور دوسرا واپس بھی نہیں کرنے پڑتے- 

جب بھی کوئی حکمران یہ کہے کہ ہمیں مشکل فیصلے کرنے ہونگے تو عوام کو سمجھ جانا چاہیے کہ نئی قسط دینے کی تاریخ قریب ہے-